ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ہوناور: شراوتی ندی میں ریت کان کنی کے لئے حکومت نے لگائی پابندی

ہوناور: شراوتی ندی میں ریت کان کنی کے لئے حکومت نے لگائی پابندی

Wed, 29 Jun 2016 20:37:29    S.O. News Service

ہوناور:29جون(ایس او نیوز)بلاری میگنیز کان کنی سے بھی زیادہ تیز رفتاری اور اتنی ہی وسعت کو اپنا کر کروڑوں روپیوں کے لین دین اور بیرونی ریاستوں کے مزدوروں کو بھی کشش کا ذریعہ بنی ہوناور کے شراوتی ندی کنارے پر بے دریغ چلنے والی ریت کان کنی کو بریک لگایا گیا ہے۔

          حکومت نے حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ ہوناور کی شراوتی ندی پر ریت کی کان کنی کے لئے جتنے بھی لائسنس دئیے گئے تھے انہیں فوری رد کیاجائے۔ اس کے علاوہ ضلعی انتظامیہ اور ریت سپلائی منظوری کمیٹی کی طرف سے ریت کان کنی کے لئے 41لوگوں کو دی گئی منظور ی کو رد کرتے ہوئے ریت نکالنےکےکام کو فوری روکنے کا حکم سرکلر میں دیا گیا ہے۔ اگر این ای ٹی کے ماہرین شراوتی ندی میں ریت کے ڈھیر ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے رپورٹ دیتے ہیں تو دوبارہ مرکزی حکومت کی وزارت ماحولیات سے ریت کان کنی کے لئے منظوری لینے کی بات کہی گئی ہے۔ اس سے قبل سورتکل این ای ٹی کے ماہرین نے شراوتی ندی میں 7ریت کے ڈھیر ہونے کی نشاندہی کی تھی ۔ جس  میں ایک ریت کے ڈھیر سے کان کنی کے لئے ریاستی ماحولیات کمیٹی نے پابندی لگائی تھی۔

          شراوتی  ندی میں موجود 7میں سے 6ریت کے ڈھیروں سے 56.25ہیکٹر علاقہ میں قریب 9میٹر گہرائی تک کل 53766میٹرک ٹن ریت کی کان کنی کے لئے 41 کانٹراکٹروں کو ضلع ریت کمیٹی نے سال 2015-2016کے لئے لائسنس دیا تھا۔کانٹراکٹروں کواس شرط کے ساتھ منظوری دی گئی تھی کہ فی کانٹراکٹرکو 5ہزار ریت نکالنے کی اجازت ہوگی اور روزانہ 50میٹرک ٹن ریت نکالنےکو کہا گیا تھا۔ فی الحال یہ تمام لائسنس رد کردئیے گئے ہیں۔

          ہوناور ، کرکی کے مہیش نائک نامی شخص نے ریاستی ہائی کورٹ میں عوامی مفاد کی عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ شراوتی ندی کنارے بغیر لائسنس کے قانون کو توڑ کر بےتحاشہ ریت کی کان کنی ہورہی ہے۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے کورٹ نے حکومت کے محکمہ اراضی اور کان کنی کے سکریٹری کو حکم دیا تھا کہ وہ تین ماہ میں جانچ کر کے کارروائی کرنے کے بعد رپورٹ سونپنے کو کہا تھا۔ مہیش نائک کی شکایت پر محکمہ اقتصادیات اور دستکاری کے سکریٹری نلیا مشات نے جانچ کی تھی ، گذشتہ مئی کے مہینہ میں محکمہ کان کنی کے ماہرین کی ایک کمیٹی ہوناور  پہنچ کر معائنہ کیا تھا اس تعلق سے نلیا مشات نے 14جون کو حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ شراوتی ندی میں 30سے 40فٹ گہرائی تک ریت نکالی جارہی ہےتو وہاں ریت کے ڈھیر ہونے کے متعلق شبہ ہے۔ اسی پس منظر میں فوری طورپر تمام لائسنس کو رد کرنے کا حکم سرکار کی طرف سے جاری کیاگیا ہے۔ دوبارہ شراوتی ندی میں ریت کان کنی کے لئے منظوری دینی ہے تو سورتکل این آئی ٹی کے ماہرین سے ندی میں ریت کے ڈھیر ہونے کے متعلق تصدیق کرلینے کے بعد ہی آگے بڑھنے کی بات کہی گئی ہے۔ لائسنس کے لئے دوبارہ مرکزی وزارت ماحولیات کو عرضی دینےکی بات کہی گئی ہے۔ ساتھ ہی حکم دیا گیا ہے کہ مشینی بوٹ کا استعمال کرتے ہوئے ریت نہ نکالی جائے۔


Share: